ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بندوق دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا یہ مسئلے کا حل نہیں:محبوبہ مفتی

بندوق دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا یہ مسئلے کا حل نہیں:محبوبہ مفتی

Sun, 13 Jun 2021 11:30:24    S.O. News Service

بارہمولہ،13؍ جون (ایس او نیوز؍یو این آئی) پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوپور حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندوق جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بندوق، دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا ہو، اس سے مسئلہ مزید بگڑے گا۔ثروت مند لوگوں سے بارہمولہ آگ متاثرین کو بھر پور مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان غریبوں کے بینک قرضوں پر نظر ثانی کرے۔

موصوفہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو یہاں نور پورہ بارہمولہ میں آگ متاثرین کی خبر گیری کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔انہوں نے کہا:یہاں ایک مکان میں چار کنبے رہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میں سے دو کو نکال کر ان کے لئے متبادل انتظام کیا جائے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ ان غریبوں کے بینک قرضوں پر نظر ثانی کرے۔محبوبہ مفتی نے ثروت مند لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان متاثرین کی مدد کریں۔سوپور حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا:ہم ایسے حملوں کی ہمیشہ مذمت کرتے ہیں، اس سے جموں و کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بندوق چاہے دلی کا ہو یا یہاں کے جوانوں کا جنہوں نے بندوق اٹھایا ہے، اس سے مسئلہ مزید بگڑے گا۔

موصوفہ نے کہا کہ ایسے حملوں سے کشمیر کی بدنامی ہی ہوتی ہے جبکہ ہر مسئلے کا حل افہام و تفہیم میں مضمر ہوتا ہے۔دریں اثنا پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی سوپور حملے کی پر زور مذمت کی ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: یہ پاگل پن کب ختم ہوگا۔ کشمیر میں سال 1989 میں بندوق کا ظہور ہوا۔ تب سے 32 برس بیت گئے۔ میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ بندوق ان ہی لوگوں کو غلام بنا دیتا ہے جن کے لئے یہ اٹھایا جاتا ہے۔ اسلحہ برداروں کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس کے لئے لڑ رہے ہیں۔بتا دیں کہ قصبہ سوپور کے مین چوک میں ہفتے کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے سیکورٹی فورسز کی ایک ناکہ پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو سیکورٹی فورسز اہلکار اور تین عام شہری ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔


Share: